12 فروری 2026 - 08:48
مآخذ: ابنا
امریکی دباؤ میں ایرانی تیل نہ خریدنا ایک غلطی تھی:اویسی

اے آئی ایم آئی ایم کے رکنِ پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر حکومت پر تنقید کی۔

اہلِ بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اے آئی ایم آئی ایم کے رکنِ پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر حکومت پر تنقید کی۔

لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا، "6 فروری کو ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے سیکشن 4 کا ذکر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بھارت براہِ راست یا بالواسطہ طور پر روس سے تیل خریدتا ہے تو وہ دوبارہ 25 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔ وہ کون ہوتے ہیں یہ طے کرنے والے کہ ہم کس سے تیل خریدیں؟ ہم نے آزادی اس لیے حاصل کی تھی کہ باہر بیٹھا کوئی شخص ہمیں ڈکٹیٹ نہ کرے۔ میں جس سے چاہوں گا تیل خریدوں گا۔ آپ کون ہوتے ہیں ہمیں بتانے والے؟ کیا آپ ہمارے آقا ہیں؟"

اویسی نے کہا، "یہ افسوسناک ہے کہ حکومت خاموش ہے۔ 2019 میں انہوں (امریکہ) نے کہا تھا کہ ایران سے تیل نہ خریدو — ایرانی تیل نہ خریدنا ایک غلطی تھی۔ اُس وقت امریکہ نے کہا تھا کہ مسابقتی نرخوں پر تیل خریدو۔ اب وہ کہہ رہا ہے کہ اجارہ داری کی قیمتوں پر تیل خریدو۔ ہم خود کو اتنا کیوں گرا رہے ہیں؟"

تجارتی معاہدے کے باعث صنعتوں کے زوال کے خدشے سے خبردار کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، "کیا آپ آزاد تجارتی معاہدہ کر رہے ہیں یا زبردستی خریداری کا معاہدہ؟ ہم بنگلہ دیش کی کپاس کی ضروریات کا 70 فیصد فراہم کرتے ہیں۔ اب امریکہ نے کہا ہے کہ اگر بنگلہ دیش اُن سے کپاس خریدے گا تو ٹیرف صفر ہوگا۔ بھونڈی، مالیگاؤں اور وارانسی کی پاورلوم صنعتوں کا کیا ہوگا؟"

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha